نئی دہلی، 03 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اناؤ عصمت دری کے ملزم ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے ہتھیاروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی بالآخر 15 ماہ بعد مکمل ہو گئی۔ضلع مجسٹریٹ دیویندر کمار پانڈے نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد تینوں ہتھیاروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگرکے نام پر ایک سنگل بیرل بندوق، ایک رائفل اور ایک روالور کا لائسنس تھا۔ان ہتھیاروں کے لائسنس کو منسوخ کئے جانے کی کارروائی گزشتہ 15 ماہ سے ضلع مجسٹریٹ کی عدالت میں چل رہی تھی۔ضلع مجسٹریٹ نے لائسنس منسوخ کی سماعت سے پہلے میڈیا کو بتایا تھا کہ عدالتی عمل کے تحت ہی تنسیخ کی کارروائی کی جاتی ہے جس میں دونوں اطراف کو سننا ہوتا ہے۔اس معاملے میں سی بی آئی جانچ شروع ہونے کے بعد رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگرکی گرفتاری کے بعد ہی ان کے تمام ہتھیار لائسنسوں کو منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی گئی تھی جو زیر التوا تھی۔ گزشتہ اتوار کومتاثرہ کے سڑک حادثے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا اور اس کے بعد رکن اسمبلی کے ہتھیار لائسنس رد نہ ہونے کے معاملے پر سوال اٹھنے لگے۔اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی عدالت نے پہلے سے مقرر تاریخ پر جمعہ کو آخری سماعت کر کے ہتھیار لائسنس منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا۔غور طلب ہے کہ متاثرہ فریق نے رکن اسمبلی کے ہتھیار لائسنس منسوخ کئے جانے کا مطالبہ پہلے بھی ضلع انتظامیہ سے کیاتھا۔ سی بی آئی نے 13 اپریل،2018 کو رکن اسمبلی کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد ہتھیار کے لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی شروع ہوئی تھی۔